| پھولوں میں اگر عکس تمہارا نہیں ہوتا |
| خوشبو کا کبھی دہر میں چرچا نہیں ہوتا |
| کچھ ہم بھی نظر ان سے ملانے سے رہے ہیں |
| کچھ ان کی طرف سے بھی اشارہ نہیں ہوتا |
| ہوجاتے ہیں ہم جیسے ہی کچھ لوگ وگرنہ |
| ہر شخص محبت میں تو اندھا نہیں ہوتا |
| ہر شخص کو دل میں تو جگہ دی نہیں جاتی |
| ہر شخص دل و جان سے پیارا نہیں ہوتا |
| ہر شخص کے ہوجاتے ہیں ہم دل سے ہمیشہ |
| افسوس کبھی کوئی ہمارا نہیں ہوتا |
| یک طرفہ محبت کا یہ اک فائدہ تو ہے |
| عزت کا کبھی اس میں کباڑہ نہیں ہوتا |
| کچھ شاخ خودی بنتی ہیں انجام کا باعث |
| ہر شاخ پہ الّو کا بسیرا نہیں ہوتا |
| گزری ہے کہیں صبح تو کاٹی ہے کہیں رات |
| ہم خانہ بدوشوں کا ٹھکانا نہیں ہوتا |
| ہر شخص اسے دیکھ کے کہتا ہے یہ کاظم |
| اتنا بھی کوئی شخص تو پیارا نہیں ہوتا |
معلومات