آنا تھا میرے گھر میں جو طوفاں تو ٹل گیا
“میں دوسروں کی آگ بجھانے میں جل گیا”
کب یہ پتہ چلا کہ جوانی کدھر گئی
وہ وقت تھا کہ ہاتھ سے جیسے نکل گیا
دنیا کے آئینے میں حقیقت نہ مل سکی
جو عکس تھا وہ وقت کے سانچے میں ڈھل گیا
دیوار جب انا کی گرانے کی بات کی
سینے میں شور وہ تھا اٹھا دل دہل گیا
میں نے چراغ بانٹ دیے شہر بھر کے بیچ
میرا نصیب کب ہے اندھیروں میں ڈھل گیا
سمجھے تھے لوگ پیار میں ہارا ہے آدمی
وہ خاک ہو کے عشق میں شاید بدل گیا
یارو یہ رازِ عشق بھی کتنا عجیب ہے
جتنا چھپا کے رکھّا پتہ سب کو چل گیا
طارِق کسی فقیر کی آنکھوں میں دیکھ کر
صدیوں کا ایک پل میں تکبّر پگھل گیا

0
12