دل ٹوٹ جائے اور دلاسا کوئی نہ ہو
مولا ہمارے جیسا بھی تنہا کوئی نہ ہو
مولا ہمیں بھی چاہیے اک زخم اس طرح
بِن عشق جس کا اور مداوی کوئی نہ ہو
غربت میں عمر کٹ گئی پر سر نہیں جھکا
بے حس جہاں کے سامنے رسوا کوئی نہ ہو
مولا ہمارے واسطے مکھڑا بنا کوئی
جیسا کسی کی آنکھ نے دیکھا کوئی نہ ہو
کھانے کو دوڑتا ہے اسے ہر کوئی یہاں
کچھ تلخ بھی ہو، شہد سا میٹھا کوئی نہ ہو
تجھ کو جہان بھر سے چھپا کر رکھوں وہاں
اک شہر دل میں ہو جسے رستہ کوئی نہ ہو
بکھری ہیں جا بجا مری جس طرح کرچیاں
دنیا میں ایسے ٹوٹ کے بکھرا کوئی نہ ہو
دستک ہوئی ہے در پہ نہ آہٹ سنی کوئی
پھر بھی میں دیکھتا ہوں کہ آیا کوئی نہ ہو

0
1