| چاند میرے تو ہے کدھر ، آجا |
| ہمہ تن چشم ہوں نظر آجا |
| نعمتِ دید ڈال آنکھوں میں |
| خالی ان برتنوں کو بھر آجا |
| عمرِ معدود کی حسیں گھڑیاں |
| کریں اک ساتھ ہم بسر آجا |
| جھاڑ اس ربط سے گریز کی گرد |
| دل کے شیشے میں پھر سنور ، آجا |
| میں سمجھ لوں گا اجنبی تجھ کو |
| تُو بھی انجان جان کر آجا |
| مت اٹھا کوفت انتظار کی دوست |
| منتظر ہوں ، اجل ادھر آجا |
| رحم کر چار بوڑھی آنکھوں پر |
| شام ہونے سے قبل گھر آجا |
| قمرآسیؔ |
معلومات