رہی ہے دل و جاں پہ وحشت مسلسل
سہی ہے یہ میں نے اذیت مسلسل
چھپایا ہے میں نے زمانے سے غم کو
مگر مجھ پہ ٹوٹی قیامت مسلسل
دبایا ہے میں نے دلِ مبتلا کو
کیے جا رہا ہے بغاوت مسلسل
کٹی ہے اکیلے ہی عمرِ گریزاں
ملی کب کسی کی رفاقت مسلسل
سجا کر لبوں پر یہاں سب تبسم
دلوں میں چھپائیں عداوت مسلسل
دکھاوا ہے یہ ساری دنیا کی رونق
کھلی ہے نظر پر حقیقت مسلسل
مری چپ بنی ہے بیانِ تباہی
نہیں دی کسی کو وضاحت مسلسل
سرابوں کی جانب روانہ قدم ہیں
مقدر بنی ہے مسافت مسلسل
کسی سے بھی اپنے دکھوں کو نہ کہنا
رہی ہے یہ اپنی روایت مسلسل

0
4