| رہی ہے دل و جاں پہ وحشت مسلسل |
| سہی ہے یہ میں نے اذیت مسلسل |
| چھپایا ہے میں نے زمانے سے غم کو |
| مگر مجھ پہ ٹوٹی قیامت مسلسل |
| دبایا ہے میں نے دلِ مبتلا کو |
| کیے جا رہا ہے بغاوت مسلسل |
| کٹی ہے اکیلے ہی عمرِ گریزاں |
| ملی کب کسی کی رفاقت مسلسل |
| سجا کر لبوں پر یہاں سب تبسم |
| دلوں میں چھپائیں عداوت مسلسل |
| دکھاوا ہے یہ ساری دنیا کی رونق |
| کھلی ہے نظر پر حقیقت مسلسل |
| مری چپ بنی ہے بیانِ تباہی |
| نہیں دی کسی کو وضاحت مسلسل |
| سرابوں کی جانب روانہ قدم ہیں |
| مقدر بنی ہے مسافت مسلسل |
| کسی سے بھی اپنے دکھوں کو نہ کہنا |
| رہی ہے یہ اپنی روایت مسلسل |
معلومات