تیری چاہت کا بھی مجھ کو احساس ہے
اپنی حالت سے بھی میں پریشان ہوں
مجھ کو معلوم ہے تیری تکمیل میں
کتنی راتوں کو میں جاگتا ہی رہا
ایک سایہ ہے تو تیری خواہش میں
بھاگتا ہی رہا ، بھاگتا ہی رہا
زخم سہنا پڑا، زہر پینا پڑا
مرنا چاہا مگر مجھ کو جینا پڑا
آج کہتا ہے تو میرا قاتل ہوں میں
تیرے غارت گروں میں شامل ہوں میں
تیرے الزام پہ چُپ رہوں کس لئے
عشقِ ناکام پر چُپ رہوں کس لئے

19