دل میں اُتر کے درد کو راحت میں ڈال دے
مولا تو اپنے کرم سے ایسے خیال دے
ذکرِ خدا سے دل کی یہ کلی کھلی رہے
نفسِ اَماّرہ سے مرے آتش نکال دے
دنیا کے رنگ و بو سے رہوں دور میں سدا
صدقہ نبی کا اے خدا رزقِ حلال دے
کینہ، حسد، فریب سے دامن بچا رہے
اخلاق میں الہی تو مجھ کو کمال دے
ہر لمحہ یادِ حق میں ہی گزرا کرے مرا
دل کو الہی اپنا تو قرب و وصال دے
سچ کی صدا بلند ہو ہر ایک حال میں
باطل کے سامنے مجھے ہمت کمال دے
آئے گا زندگی کا مزہ پھر تجھے عتیق
اپنا وجود عشق کے سانچے میں ڈھال دے

0
6