| پھول کو خار نے کیا اونچا |
| تخت کو دار نے کیا اونچا |
| سرو کو میرے قد سے کیا نسبت |
| مجھکو کردار نے کیا اونچا |
| میں پڑا تھا فنا کی چوکھٹ پر |
| جب ترے پیار نے کیا اونچا |
| مجھکو کانٹوں کا تاج اچھا تھا |
| درد دستار نے کیا اونچا |
| زندہ رہ کر میں گرنے والا تھا |
| ایک تلوار نے کیا اونچا |
| پارسا ئوں کے گرتے پرچم کو |
| اک خطاکار نے کیا اونچا |
| خود کو ہارا تو تجھ کو جیت لیا |
| جیت کو ہار نے کیا اونچا |
| حیدر اس نغمہ ہائے الفت کو |
| نقشٍ دلدار نے کیا اونچا |
معلومات