| ہمیں ڈھونڈتے وہ ستارے رہے تھے |
| کہ ہم خود ہی اپنے کنارے رہے تھے |
| نہ خورشیدِ عالم کی حاجت رہی اب |
| ہم اپنے اجالے، سہارے رہے تھے |
| نہ مانگی کسی سے بھی کوئی بھی بخشش |
| نہ ہم پر کبھی کچھ اشارے رہے تھے |
| ہم اپنی ہی دنیا میں آباد تھے اب |
| کہ تنہا کٹے جو وہ پیارے رہے تھے |
| نہ تھی آرزو کوئی تعریف کی بھی |
| سو خاموش اپنے نظارے رہے تھے |
| ہمیں کون دنیا کی پہچان دیتا |
| کہ ہم خود ہی اپنے خسارے رہے تھے |
| انھیں خود سے نسبت، انھیں خود سے الفت |
| یہی ایک دو زخم سارے رہے تھے |
| کیا ان سے عادلؔ تو اب مانگتا ہے |
| جو خود اپنے در کے سہارے رہے تھے |
معلومات