ہے صدر میں دل تو دل میں مستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
تو ہست ہے میں تبھی ہوں ہستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
عیاں میں مَیں ہوں نہاں میں تُو ہوں، خودی میں مَیں تیرے روبرو ہوں
میں ہوں اَنَا تو اَنَا پرستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
کبھی تصور میں ہے مصور، کبھی مصور میں ہے تصور
میں گھر ہوں تیرا تو گھر گِرَسْتی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
میں نیچ خود میں تو خود میں اعلیٰ، تو خود میں آیا ہوا میں بالا
مَیں پست ہوں تو ہے بالا دستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
ذکیؔ عجب لَو سے لَو ملی ہے، کہ ذات میں ذات اور بھی ہے
بہ یک جا ہے روتی اور ہنستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری

0
1