سکون اپنے ہی دل میں ذرا تلاش کرو
خود اپنے آپ میں رب کا پتا تلاش کرو
یہ زندگی ہے تو پھر زندگی کے معنی میں
کتابِ وقت کا صفحہ نیا تلاش کرو
جو اپنے پاس ہے اس کی بھی قدر چاہیے کچھ
ہر ایک چیز میں کیوں دوسرا تلاش کرو
چراغ بن کے جلو راستہ نہیں ہے تو کیا
اندھیری رات میں دل کا دیا تلاش کرو
تمہیں گرا کے جو دنیا تمہیں اٹھاتی ہے
اسی شکست میں جینا ہے کیا تلاش کرو
نہ تخت و تاج نہ شہرت کی آرزو نہ طلب
دلوں میں رہنے کی کوئی ادا تلاش کرو
جو شخص تم سے محبت میں سچ نہیں بولا
اسے معاف کرو اور خدا تلاش کرو
یہ جسم خاک ہے آخر اسے بکھرنا ہے
بقا کے واسطے نقشِ وفا تلاش کرو
ہزار لوگ ملیں گے سفر کے رستے میں
ملا دے خود سے جو وہ رہنما تلاش کرو
زمانہ توڑنے میں تم کو جب رہے مصروف
شکستگی میں بھی تم حوصلہ تلاش کرو

0
11