کلیوں کا کھلنا، گلوں کا مسکرانا
بہاروں سے ایسے چمن کا لہرانا
ہو خوش دیکھ فضا باغباں بھی
یوں کاوشوں پر اپنی اسکا اترانا
ہیں خوشبوئیں ہمدم یوم و شب
سانسوں سے معطر دلکو ہے مہکانا
دریافت کی عمر غنچہ نے پھول سے
ہو کر طنزیہ کہا سوال نہ کرو بچکانا
رہتے ہیں بدلتے ناصر موسم تو یہاں
وقت کے ساتھ سب کو ہے مرجھانا

0
24