چٹھی وٹھی اور تصویریں ختم
ہجر میں ہر رنج کی ہیریں ختم
شاعری پھر بر زباں ہوتی گئی
سامنے سے ساری تحریریں ختم
دستِ سائل مانگنے سے ڈر گیا
تیری نصرت کی بھی زنجیریں ختم
اب مجھے کچھ ساز بھی جچتا نہیں
تیری باتوں کی سبھی ریلیں ختم
میں نے بسمل بن کے طیب کھو دیا
یاد سے اٹھتی وہ تصویریں ختم

0
17