| گھل گئی تیری چاندنی مجھ میں |
| دور تک پھیلی روشنی مجھ میں |
| کِھل گئی پیار کی کلی مجھ میں |
| سانس لیتی ہے اب خوشی مجھ میں |
| مجھ سے بچھڑی مگر رہی مجھ میں |
| خود کو اکثر ہے ڈھونڈتی مجھ میں |
| جب سے خود سے ہوئی شناسائی |
| اجنبی سا ہے آدمی مجھ میں |
| عشق نہ تھا، تھی دل لگی پر اب |
| جاگ اٹھی ہے عاشقی مجھ میں |
| زیست میں جب سے ہے کمی تیری |
| تب سے کم سی ہے زندگی مجھ میں |
| طاقِ جاں میں دیا بجھا دل کا |
| ہر سو پھیلی ہے تیرگی مجھ میں |
معلومات