گھل گئی تیری چاندنی مجھ میں
دور تک پھیلی روشنی مجھ میں
کِھل گئی پیار کی کلی مجھ میں
سانس لیتی ہے اب خوشی مجھ میں
مجھ سے بچھڑی مگر رہی مجھ میں
خود کو اکثر ہے ڈھونڈتی مجھ میں
جب سے خود سے ہوئی شناسائی
اجنبی سا ہے آدمی مجھ میں
عشق نہ تھا، تھی دل لگی پر اب
جاگ اٹھی ہے عاشقی مجھ میں
زیست میں جب سے ہے کمی تیری
تب سے کم سی ہے زندگی مجھ میں
طاقِ جاں میں دیا بجھا دل کا
ہر سو پھیلی ہے تیرگی مجھ میں

1