اِن پیار کے نغموں سے یادیں کو سجانے دو
فُرقت میں کریمی کی اب آنسو بہانے دو
پامال ہوں سب یادیں اِک یادِ مدینہ سے
اس دل میں جو ہوتا ہے وہ سب سے چھپانے دو
جو من میں رکھا کہہ دیں سرکار کے بردے کو
اس نامِ محمّد کو سینے سے لگانے دو
ناکارہ و مجرم ہوں عِصیاں نے جو گھیرا ہے
آقا کے قصیدے سے یہ حُزن مٹانے دو
یہ دل سے ندا آئے سرکار بلائیں گے
اے بادِ سحر میری فریادوں کو جانے دو
دشواریو ہے منت میرا رستہ نہ تم روکو
وہ قصرِ حبیبِ من اب سامنے آنے دو
میلاد ہو سرور کا گھر بار سجاتے ہیں
ہے عیدِ سعید اُن کی یہ خوب منانے دو
الفاظ اگر ملتے جو دل میں ہے کہہ دیتا
یہ ہجر کے آنسو ہیں یہ خوب بہانے دو
ہے خُلد جو دنیا میں وہ شہرِ مدینہ ہے
یہ جالیاں روضہ کی آنکھوں کو دکھانے دو
محمود درودوں کے جو ہار سجائے ہیں
اس خدمتِ اقدس میں وہ آپ لے جانے دو

0