تری طلب بھی شریعت کی بیڑیاں بھی ہیں
کچھ اپنی شومئ قسمت ہے دوریاں بھی ہیں
۔
حسیں کے واسطے لائے بہ شوق تحفۂ عید
حنا ہے ہار ہے کپڑے ہیں چوڑیاں بھی ہیں
۔
میاں نہیں سفرِ زیست اتنا بھی آساں
ہے راہ کانٹوں بھری اور کھائیاں بھی ہیں
۔
ہم آج مل کے گزاریں یہ شب دسمبر کی
ہوں میں بھی تم بھی ، تپش کو یہ لکڑیاں بھی ہیں
۔
جہان والوں کو بس خامیاں ہی دِکھتی ہیں
اگرچہ یار مدثر میں خوبیاں بھی ہیں

0
47