خوابوں کو بھی دلوں میں اپنے اگر سجائے
منزل کو سامنے ہی ہر لمحہ پھر بسائے
بنجر زمین محنت سے قابلِ اُپج ہو
مایوسی چھوڑے گر تو بھرپور ثمرہ پائے
مضبوط ہو ارادے، گلزار بنتے جائے
پودہ گلاب کا بھی چٹان پر اگائے
بیدار رہنے والے زحمت نہیں اُٹھاتے
دہقاں ہو باخبر پھر تو کھیت مسکرائے
ہو اعتماد کامل رازق پہ جس کا ہر دم
فاقہ کشی سے کیسے اُس کو وہی بچائے
جو ضابطہ بتایا صادق امین نے ہے
اُس راستہ پہ ہی گاڑی زندگی کی چلائے
من مانی بھی یہاں کب تک ہم کریں گے ناصؔر
یومِ حساب کی فکروں میں بھی تو مٹائے

0
18