ہم سوچتے ہیں آج بھی عمریں گزار کے
برسوں گزر گئے یونہی لیل و نہار کے
لوگوں کے اژدہام میں کھو سی گئی وفا
معنی بدل گئے سبھی قول و قرار کے
ہر جام بھر گئی مرا بہکی ہوئی ہوا
دیکھا جو زہر یاد کا غم میں اتار کے
خوشبو اداس رات کی من میں اتر گئی
خاموش ہو گئے ہیں سمندر پکار کے
جھانکا ہے آنکھ کی کھلی روزن سے بار ہا
عادی ہیں کتنے آج بھی ہم انتظار کے
بننے لگے ہیں داغ ستارے فلک کے بھی
جب سے بنے ہیں دوست کسی بادہ خوار کے
اک آہ درد کی کیا شاہد نے تھی بھری
مڑ کے نہیں ہیں لوٹے کبھی دن بہار کے

0
3