کسی کے درد کا کیونکر اثر نہیں ہوتا
اگرچہ دل ہے کوئی بے خبر نہیں ہوتا
ہمیں تو چلتے ہی رہنا ہے اپنی راہوں پر
کہ رک گئے تو مکمّل سفر نہیں ہوتا
یہ اور بات کہ چہرے پہ مسکراہٹ ہے
ہر ایک شخص یہاں معتبر نہیں ہوتا
چراغِ دل کو نہیں سامنے ہوا کے کرے
ہر ایک ہاتھ میں ایسا ہنر نہیں ہوتا
وہ شخص جس نے اندھیروں سے جنگ جیتی ہو
اسے زمانے سے کوئی بھی ڈر نہیں ہوتا
کسی کی یاد اگر روح میں اتر جائے
پھر اس کے بعد کوئی بھی ادھر نہیں ہوتا
تمام عمر جسے ڈھونڈتے رہے ہم سب
وہ اپنے آپ سے باہر بشر نہیں ہوتا
عجیب لوگ ہیں آئینہ دیکھتے تو ہیں
نظر میں اپنا ہی چہرہ مگر نہیں ہوتا
تلاش اپنے ہی اندر کسی کو کر طارِق
کہ خود سے بڑھ کے کوئی ہم سفر نہیں ہوتا

0
9