| حجاب! تیرا حساب کیسا، جو میں نہ دیکھوں شباب کیسا |
| پڑھا ہے تو نے نصاب کیسا، حبیب سے یہ حجاب کیسا |
| تو روبرو بے حجاب ہوجا، کرم میں یوں بے حساب ہوجا |
| کہ اک مبیّن کتاب ہوجا، نہ رکھ تو باقی نقاب کیسا |
| جمال تیرا کرم کا پیکر، جمیل ہے تو جمل کا ساگر |
| مکینِ دل تو ہے میں ترا گھر، تو مجھ پہ کوئی عتاب کیسا |
| ہے میرا جو کچھ یہ سب ترا ہے، ہے تیرا جو کچھ وہ سب مرا ہے |
| یہاں ہے جو کچھ ترا مرا ہے، تو پھر ثواب و عذاب کیسا |
| جہاں پہ میں ہوں وہیں پہ تو ہے، تو میری خاموش کفتگو ہے |
| یہ ذات بھی تیری ہو بہو ہے، سوال کیسا جواب کیسا |
| دیا تو جو کچھ تری عطا ہے، قبول مجھ کو جو تو دیا ہے |
| تجھی سے سب کچھ ملا، ملا ہے، تو خار کیسا گلاب کیسا |
| میں کیا ابھی تک ترا نہیں ہوں ابھی بھی عاشق کھرا نہیں ہوں |
| میں کچھ بھی تیرے سوا نہیں ہوں، تو مجھ سے یہ اجتناب کیسا |
| تو ہوش میں بھی منام میں بھی، حیات کے ہر مقام میں بھی |
| نظر کے ہر اک نظام میں بھی، تو ہوش کیسا تو خواب کیسا |
| میں تجھ سے منسوب ہو گیا ہوں، میں تجھ میں محجوب ہو گیا ہوں |
| میں دیکھ کیا خوب ہو گیا ہوں، میں پھر رہوں گا خراب کیسا |
| میں مشکلوں سے تجھے ہوں پایا، تو آفتوں سے ہے ہاتھ آیا |
| کسی کو پھر بھی نہیں بتایا، ہوا ہے تو دستیاب کیسا |
| ذکؔی اگر چہ ہو تم سخن ور، ہیں تم میں محجوب کے یہ تیور |
| وہی سخن کا تمہارے یاوَر، ہے ورنہ تم میں خطاب کیسا |
معلومات