| یہ ستارے کہاں مہرباں ہو گئے |
| “جو زمیں بھی نہ تھے آسماں ہو گئے” |
| جن کو اپنی خبر بھی نہ تھی کل تلک |
| اب زمانے کے وہ رازداں ہو گئے |
| ہم نے سچ بولنے کی سزا کیا سہی |
| اپنے کردار میں جاوداں ہو گئے |
| کل تلک جو حفاظت کے محتاج تھے |
| آج وہ شہر کے پاسباں ہو گئے |
| عقل حیراں ہے چشمِ جنوں دم بخود |
| کیسے کیسے یہاں حکمراں ہو گئے |
| ایک لمحہ جو خود سے ملاقات کی |
| ہم بھی اپنے لیے ترجماں ہو گئے |
| جن کو اُن کے زمانے نے ٹھُکرا دیا |
| اب وہ تاریخ کی داستاں ہو گئے |
| جن کے ہاتھوں میں دُشنام کے تیر تھے |
| اب وہی شاملِ کارواں ہو گئے |
| مانا دن بھر ستارے نہ آئے نظر |
| رات ہوتے ہی وہ کہکشاں ہو گئے |
| اپنی ہستی حوالے خدا کے جو کی |
| ہم فنا ہو کے بھی جاوداں ہو گئے |
| طارق اپنی حقیقت کا یہ راز ہے |
| ہم ہی منزل تھے جب کارواں ہو گئے |
معلومات