| پھر بساط بچھتی ہے |
| اور مہرے سجتے ہیں |
| طبلِ جنگ کے بجتے ہی |
| صف آرا پیادوں کے |
| خون کھول اٹھتے ہیں |
| بے دھڑک جھپٹتے ہیں |
| پاؤں آگے دھرتے ہیں |
| رخ اپنی قوت سے |
| جو بھی سامنے آئے |
| تہس نہس کرتے ہیں |
| فیل جب امڈتے ہیں |
| اپنی اپنی مستی میں |
| راہ کی رکاوٹ کو |
| آر پار کرتے ہیں |
| اسپ بھی جوانی میں |
| اچھلتے ہیں لپکتے ہیں |
| ترچھے وار کرتے ہیں |
| وزیر اپنی طاقت سے |
| جب صفیں الٹتے ہیں |
| بے پناہ فراست سے |
| چال گہری چلتے ہیں |
| دور سے تماشائی |
| واہ واہ کرتے ہیں |
| جاں نثار مہرے سب |
| اپنی اپنی باری پر |
| شاہ کو بچاتے ہیں |
| خود پہ وار سہتے ہیں |
| جان ہار دیتے ہیں |
| پھر وہ لمحہ آتا ہے |
| ہر طرف سے شاہ کو |
| گھیر لیا جاتا ہے |
| کھیل ختم ہوتا ہے |
| شاہ مگر نہیں مرتے |
| تذکروں میں بستے ہیں |
| رزمیوں میں جیتے ہیں |
| صرف مہرے مرتے ہیں |
| پھر بساط بچھتی ہے |
| اور مہرے سجتے ہیں |
| اور مہرے سجتے ہیں |
معلومات