بتِ انا کو گراتا نہ میں تو کیا کرتا
ترے بلانے پہ آتا نہ میں تو کیا کرتا
مجھے لٹانا تھا آخر کسی جگہ زرِ اشک
تمہاری راہ سجاتا نہ میں تو کیا کرتا
خراجِ آگہی دینا ضروری ہو گیا جب
متاعِ ہوش گنواتا نہ میں تو کیا کرتا
کسی کے لہجے کی یخ بستگی قیامت تھی
گر اپنے جی کو جلاتا نہ میں تو کیا کرتا
قریب تھا کہ مری آنکھ دشت ہو جاتی
اساسِ گریہ اٹھاتا نہ میں تو کیا کرتا
تمام اس نے کیے عہد توڑ ڈالے تھے
سو جشنِ ہجر مناتا نہ میں تو کیا کرتا
گو اس کو چھوڑ کے جانا عذاب تھا آسیؔ
پہ اس کو چھوڑ کے جاتا نہ میں تو کیا کرتا
قمرآسیؔ

0
2