| شکستہ دل ہوں مگر مرتبہ اڑان کا ہے |
| یہ عزم خاک نشیں کا نہیں، جہان کا ہے |
| سکوتِ لب پہ تعجب نہ کر کہ سینے میں |
| لہو کے جوش پہ پہرا مری زبان کا ہے |
| ہمیں بھی شامِ جدائی نے کر دیا خاموش |
| کہ یہ بھی ایک تقاضا تو امتحان کا ہے |
| بکھر گئے ہیں کئی خواب ریت پر لیکن |
| ابھی تلک تو بھرم میرے سائبان کا ہے |
| ہوا کے دوش پہ جو نوحہ گر ہے صدیوں سے |
| وہ ایک نوحہ مری زیست کے مکان کا ہے |
| کمان سے جو نکل کر ہدف پہ جا پہنچا |
| وہ تیر اب بھی مرے عہدِ بے امان کا ہے |
| وہ جا چکا ہے مگر دل کو چین آ نہ سکا |
| یہ سارا خوف تو پھیلی ہوئی گمان کا ہے |
| کوئی گلہ نہیں طوفاں سے ڈوبنے والے |
| قصور سارا ہی کشتی کے بادبان کا ہے |
| فنا کے دشت میں عادل جو گونجتا ہے اب |
| وہ نالہ مجھ سے بچھڑتے ہوئے جہان کا ہے |
معلومات