| مرے دل کے درد کا فیصلہ نہیں ہو سکا |
| وہی حال ہے کہ جو پھر بھلا نہیں ہو سکا |
| جسے مانتا رہا تھا کبھی میں بھی مقتدا |
| وہی شخص میرے لیے دعا نہیں ہو سکا |
| وہ جو خواب تھا مری بستیوں کی امان کا |
| کسی دھوپ میں بھی وہ اب ہرا نہیں ہو سکا |
| مری چپ میں کتنے ہی لفظ آ کے گئے مگر |
| جو ملال تھا وہ کبھی بپا نہیں ہو سکا |
| تھے ہزار چہرے جو آس پاس ہی رہ گئے |
| کوئی تجھ سا مہر و وفا نما نہیں ہو سکا |
| میں ضمیر بیچ کے سر جھکا کے نہ چل سکا |
| اسی واسطے کبھی وہ مرا نہیں ہو سکا |
| وہی تشنگی رہی ہر سفر میں مرے لئے |
| کہیں ابرِ کرم بھی ہم پہ وا نہیں ہو سکا |
معلومات