رات کیوں تجھ پہ آج بھاری ہے
دل تجھے کیسی بے قراری ہے
وصل کے چار دن نہیں پائے
ہجر میں زندگی گزاری ہے
تیری الفت کہاں پہ لے آئی
اب مری زندگی میں خواری ہے
دل تمھیں دے چکا ہوں پہلے ہی
جان بھی آج سے تمہاری ہے
اس کے لفظوں میں کاٹ ہے کتنی
ہے زباں منہ میں یا کہ آری ہے

0