تمہارے محفوظ گھروں کے
بند شیشوں کے اس پار
گیلی مٹی کی بو
محض ایک مانوس آسودگی ہے
اور بارش۔۔۔
چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ کا پس منظر۔۔
مگر یہاں
اس کچے مکان میں
بارش کی بوندیں کوئی خوشگوار دستک نہیں دیتیں
یہ خوف بن کر سیدھا دل پر گرتی ہیں
زنگ کھائے ٹین پر رکھے پرانے ٹائروں کا بوجھ بھی
ہوا کی وحشت کے آگے بے معنی ہو چکا ہے
اور ان سب کے بیچ کھڑا وہ ننھا بچہ۔۔۔
ننگے بدن پر پھسلتے سرد پانی میں،
جس کی پوری کائنات
اس ایک ٹیڑھے، گیلے بانس پر آ ٹکی ہے
جسے اس نے اپنی نیلی پڑتی انگلیوں سے
پوری جان سے یوں جکڑ رکھا ہے۔۔۔
جیسے وہ ٹین کا کوئی ٹکڑا نہیں
مٹھیوں سے پھسلتا ہوا اپنا بچپن تھامے کھڑا ہو
ایڑیاں گارے میں مسلسل دھنس رہی ہیں
پتلے بازوؤں کی کھنچی ہوئی نسوں میں
خوف اور ضد ایک ہو گئے ہیں
اور آسمان۔۔۔ لمحہ بہ لمحہ مزید بھاری ہو رہا ہے
کل شاید دھوپ نکل آئے۔۔۔
کیچڑ سوکھ کر دوبارہ زمین ہو جائے گا،
لیکن مجھے ڈر ہے۔۔۔
بانس کے گرد جمی اس کی مٹھیوں کی یہ اکڑن
شاید اب کبھی نہ کھلے۔
بارش کے مکمل تھم جانے کے برسوں بعد بھی۔۔۔
یہ ہاتھ، جو وقت سے پہلے کھردرے ہو گئے ہیں،
شاید ہوا میں یونہی۔۔۔
کسی ان دیکھی چھت کو روکے کھڑے رہیں۔

0
4