| تری نظر کا مری ذات پر اثر ہے ابھی |
| مرے وجود میں جاری ترا سفر ہے ابھی |
| میں اپنے آپ سے ملنے کی جستجو میں رہا |
| مگر مجھے بھی تو پہنچی تری خبر ہے ابھی |
| وہ ایک لمس کہ جس کو بھلا نہیں پایا |
| مرے خیال میں اس لمس کی سحر ہے ابھی |
| ترے سکوت نے جو بات کہہ دی آنکھوں سے |
| وہی تو میرے لیے سب سے معتبر ہے ابھی |
| کسی کے ہجر نے پتھر تو کر دیا مجھ کو |
| مگر نگاہ میں اک خواب منتظَر ہے ابھی |
| تمام شہر نے مانا کہ ختم ہے قصّہ |
| یہ میرا دل شبِ تنہائی کا نگر ہے ابھی |
| وہ جس کے بعد زمانہ بھی مختلف سا لگا |
| مرے خیال میں اس شخص کا گزر ہے ابھی |
| میں جس کو وقت کی تہہ میں دبا کے بیٹھا تھا |
| وہی خیال مرے دل میں بے خطر ہے ابھی |
| عجیب عشق ہے دوری بھی کم نہیں کرتی |
| وہ مجھ سے دور ہے پَر دل میں ما حضر ہے ابھی |
| کہیں نہ رازِ محبّت کو کھولنا طارِق |
| یہ رازِ دل بھی عجب صاحبِ ہنر ہے ابھی |
معلومات