یہ گیت سہانے ہیں دلبر کو سنانے ہیں
کچھ اشک ہیں آنکھوں میں جو ساتھ بہانے ہیں
اعمال پہ رونا ہے نامے میں کجی ہر جا
کچھ خاص عمل ہیں جو آقا سے چھپانے ہیں
بے عیب نہیں لیکن بردے ہیں کریمی کے
سرکار نے امت کے عاصی جو چھڑانے ہیں
جب آئیں گے نظروں میں انوار تجلیٰ کے
یہ عرض کریں گے ہم سینے سے لگانے ہیں
یہ دل سے ندا آئے جائیں گے مدینے ہم
اس در کی عطاؤں سے کچھ حزن مٹانے ہیں
جائے گی نظر سے پھر دلدار کو یہ عرضی
کل اذن چھڑانے کے مختار سے آنے ہیں
محمود ملیں نظریں سرکار کے روضہ سے
شوریدہ نے کچھ نالے آقا کو سنانے ہیں

0
2