رحمت کے گرد و پیش سے مصرعے نکال کر
کرتے ہیں پیش عشق کے پلڑے میں ڈال کر
لفظوں میں نور بھر کے سجائے ہیں نعت کو
لایا ہوں دل کی آگ کو آنسو میں ڈال کر
ہر اک سخن سباس مدینے کی خاک کی
رکھتا ہوں دل کو در پہ ادب سے سنبھال کر
میں کیا مری بساط ہے ریزہ غبار سا
آیا ہوں اُن کے در پہ یہ ارماں اُچھال کر
احساس کی زمیں پہ اگے ہیں یہ شعر سب
میں نے لکھے ہیں درد کو سینے میں پال کر
آقا کے ذکر سے ہی منور ہے میرا دل
رکھتا ہوں نام اُن کا میں سانسوں میں پال کر
مدحت میں اُن کی ڈوب کے ملتا ہے یہ سکوں
جیسے کوئی ہو پیاس بجھائے نہال کر
طیبہ کی خاک آنکھ میں کاجل سی بس گئی
پھیلا رہا ہوں نور اسے دل میں ڈال کر
در پر کھڑا ہوں ہاتھ میں خالی سا جام ہے
دیکھوں گا لطفِ خاص کو دامن اُچھال کر
محشر میں کام آئیں گے اشکِ ندامتیں
آیا ہوں اُن کے در پہ گناہوں کو ٹال کر
ارشدؔ یہ تیرا فن بھی ہے اُن ہی کی اک عطا
لکھتا ہے نعت اُن کی تو اشعار ڈھال کر
مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

0
4