| محبّت نبھانے کو دل چاہتا ہے |
| سدا چاہے جانے کو دل چاہتا ہے |
| مرے دل نے پھر سے کیا ہے تقاضا |
| ترے پاس آنے کو دل چاہتا ہے |
| کوئی روٹھ جائے تو کب چین آئے |
| کسی کو منانے کو دل چاہتا ہے |
| بہت دور تک چل چکے ہیں اکیلے |
| ذرا پاس آنے کو دل چاہتا ہے |
| جو باتیں مر ے دل میں ہیں دفن کب سے |
| وہ ساری بتانے کو دل چاہتا ہے |
| وہ جس نے کبھی درد سمجھا نہ میرا |
| اسی کو سنانے کو دل چاہتا ہے |
| یہ دل بھی عجب شے ہے زخموں سے پُر ہے |
| مگر تیر کھانے کو دل چاہتا ہے |
| بہت ہو چکی تلخیٔ روز و شب اب |
| ذرا مسکرانے کو دل چاہتا ہے |
| جو بچھڑا تھا مجھ سے کہیں راستے میں |
| اسے ڈھونڈ لانے کو دل چاہتا ہے |
| نہ شکوہ نہ الزام بس معذرت اک |
| ندامت دکھانے کو دل چاہتا ہے |
| بکھر جائے عارض پہ کاجل نہ طارِق |
| “اسے اب ہنسانے کو دل چاہتا ہے” |
معلومات