بے سہاروں کو سہارا چاہئے
چاہنے والوں کو پیارا چاہئے
ہم کو دنیا والوں سے ہے کیا غرض
آپ کا بس اک اشارا چاہئے
عشق میں دریا کی ہے حاجت کسے
دید کا بس ایک قطرہ چاہئے
ڈوب جائوں میںنہ دریا میں کہیں
ناو کو میری کنارا چاہئے
لذتِ دنیا نہ ہو گر اعتباؔر
اس کے سائے میں بسیرا چاہئے

12