اپنی مجھے پہچان بتاتا ہے کہ میں ہوں
خود میں مرے طوفان مچاتا ہے کہ میں ہوں
یہ کون ہے بے شکل جو آ کر مرے اندر
خود میں مجھے خود سے ہی ملاتا ہے کہ میں ہوں
دیتا ہے بڑے چاؤ سے یہ خود کی شہادت
خود نازِ گواہی بھی اُٹھاتا ہے کہ میں ہوں
بے ضبط ہوں پہلے ہی اِسے پا کے میں خود میں
کہہ کہہ کہ مجھے خوب رُلاتا ہے کہ میں ہوں
اک پل کے لئے بھی نہیں غفلت مجھے اِس سے
ہر آن مرے خود میں جتاتا ہے کہ میں ہوں
ہو جائے اگر صاف کوئی عشق میں جل کر
بے پردہ وہ جلوہ بھی دکھاتا ہے کہ میں ہوں
جب غرق ذكی كوئی ہو جلوے میں خودی كے
نعرہ وہ اَنَا الْحَقْ کا لگاتا ہے کہ میں ہوں

0