بُرا ہوں کہ اچھا ہوں
خُدا جانے میں کیا ہوں
یوں مت کاٹ دل میرا
ابھی کچھ میں زندہ ہوں
دو بُوندیں بھی کیسے دوں
میں خود تِشنہ دریا ہوں
محبت کی منڈی میں
میں ٹکڑوں میں بِکتا ہوں
ترا حکم حرفِ کُن
میں بھٹکا پرندہ ہوں

0
9