| ہیں گیت آشتی کے مدحت حضور کی |
| کر دے دروں درخشاں الفت حضور کی |
| گردوں میں رونقیں ہیں لطفِ حبیب سے |
| ہے زینتِ جہاں بھی رحمت حضور کی |
| قوسین میں بلا کر پردہ اُٹھا دیا |
| چشمِ فلک نے دیکھی عظمت حضور کی |
| اسود کو منزلت یوں بخشی کریم نے |
| یہ مرتبہ ہے دیتی قربت حضور کی |
| جبریل جھومتا ہے عشقِ حبیب ہیں |
| ایسے نوازتی ہے خدمت حضور کی |
| جو لعلِ آمنہ سے چندا ہے کھیلتا |
| یوں حسن بانٹتی ہے صورت حضور کی |
| جاری ہیں غیر پر بھی اُن کی نوازشیں |
| کیسی سرشت میں ہے فطرت حضور کی |
| محمود گر تو چاہے اکرامِ کبریا |
| لے آؤ زندگی میں سیرت حضور کی |
معلومات