| بروزِ محشر مجھے ملے گا، تو تیرے دامن کو تھام لوں گا |
| خدا جو پوچھے ستایا کس نے، پکار کر تیرا نام لوں گا |
| وہ دل کو توڑے ہیں دل میں رہ کر، رہا ہوں میں بے وفائی سہہ کر |
| وفا نبھاؤں گا جان دے کر، میں ان سے یوں انتقام لوں گا |
| وہ گرچہ مجھ سے چھپا رہے گا، تلاش میں اس کی دل جلے گا |
| وہ بے وفائی سے کام لے گا، تو بھی وفا ہی سے کام لوں گا |
| وہ ہاتھ آئے گا میرے جب بھی، نظر چُرائے گا مجھ سے تب بھی |
| تو بے وفا ہے کہوں گا اب بھی، وفا کا بدلہ تمام لوں گا |
| وفا کے بدلے میں بے وفائی، نہ اس کو تھوڑی بھی شرم آئی |
| نہ دوں گا اس کو ذکیؔ دکھائی، کچھ ایسا اپنا مقام لوں گا |
معلومات