| اس بار خواب میں یہ عجب واقعہ ہوا |
| پھرتا رہا ہوں خود کو میں خود ڈھونڈتا ہوا |
| ۔ |
| کرنے لگے تھے مجھ سے در و بام گفتگو |
| شدت کے ہجر میں مجھے کچھ حوصلہ ہوا |
| ۔ |
| خوشیوں کا استعارہ ہوا کرتا تھا کبھی |
| رہتا ہے اب ہمیشہ وہ چہرہ بجھا ہوا |
| ۔ |
| ممکن کہاں کہ ہجر فرشتے سمیٹتے |
| آخر بس آدمی ہی کا یہ حوصلہ ہوا |
| ۔ |
| ہر بات پر یہ کہنا بھی اچھا فریب ہے |
| جو بھی ہوا بس اللہ کی منشا ہی کا ہوا |
| ۔ |
| شاید کہ میری ذات کوئی تجربہ ہی تھی |
| ہر ایک شخص مجھ پہ ہنر آزما ہوا |
| ۔ |
| ہے رتجگوں کا قصہ مدثر یہ روز کا |
| سگریٹ کچھ بجھے ہوئے اور خط جلا ہوا |
معلومات