زمین و زماں تمہارے لئے مَکِین و مکاں تمہارے لئے
چُنین و چُناں تمہارے لئے بنے دو جہاں تمہارے لئے
اِصالتِ کل امامتِ کل سِیادَتِ کل اِمارتِ کل
حکومتِ کل وِلایتِ کل خدا کے یہاں تمہارے لئے
یہ شمس و قمر یہ شام و سحر یہ بَرگ و شَجر یہ باغ و ثَمر
یہ تِیغ و سِپر یہ تاج و کمر یہ حکم رواں تمہارے لئے
نہ رُوحِ امیں نہ عرشِ بَریں نہ لَوحِ مُبیں کوئی بھی کہیں
خبر ہی نہیں جو رَمزیں کھلیں ازل کی نِہاں تمہارے لئے
جِناں میں چمن، چمن میں سمن، سمن میں پھبن، پھبن میں دلہن
سزائے محن پہ ایسے مِنَن یہ امن و اَماں تمہارے لئے
خلیل و نجی، مسیح و صَفی سبھی سے کہی کہیں بھی بنی
یہ بے خبری کہ خَلق پھری کہاں سے کہاں تمہارے لئے
اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
گئے ہوئے دن کو عصر کیا یہ تاب و تَواں تمہارے لئے
صبا وہ چلے کہ باغ پھلے وہ پھول کھلے کہ دن ہوں بھلے
لِوا کے تلے ثنا میں کھلے رضاؔکی زباں تمہارے لئے

0
39