| اس حسیں وادئ گل کے تم نظارے دیکھنا |
| نیم شب میں چاند کی جانب اشارے دیکھنا |
| اپنی زلفیں کھول کر تم بیٹھ جانا گھاس پر |
| ساتھ میرے بہتے پانی کے کنارے دیکھنا |
| خامشی میں لب کریں گے میرے جب سرگوشیاں |
| ان نگاہوں میں جنوں کے سرخ دھارے دیکھنا |
| پیار کی اس رات میں سب درد و غم کو بھول کر |
| زندگی بھر کے لیے سپنے سنوارے دیکھنا |
| سرد شبنم کے وہ قطرے جو گلاب سرخ پر |
| آبشاروں نے پہاڑوں پر اتارے دیکھنا |
| وہم کی پرچھائیاں دل میں ابھر آئیں اگر |
| ساتھ مل کر وہ زمانے جو گزارے دیکھنا |
| غم کے سائے جب تمہاری منزلوں کو ڈھانپ لیں |
| تیرگی میں تم امیدوں کے ستارے دیکھنا |
| وقت کی اس بھیڑ میں گر لوٹ آنا ہو کبھی |
| عشق نے جو زخم بخشے وہ ہمارے دیکھنا |
معلومات