اس حسیں وادئ گل کے تم نظارے دیکھنا
نیم شب میں چاند کی جانب اشارے دیکھنا
سرد شبنم کے وہ قطرے جو گلابِ سرخ پر
آبشاروں نے پہاڑوں پر اتارے دیکھنا
اپنی زلفیں کھول کر تم بیٹھ جانا گھاس پر
ساتھ میرے بہتے پانی کے کنارے دیکھنا
خامشی میں لب کریں گے میرے جب سرگوشیاں
ان نگاہوں میں جنوں کے سرخ دھارے دیکھنا
پیار کی اس رات میں سب درد و غم کو بھول کر
نرم پوروں سے مرے بال سنوارے، دیکھنا
وہم کی پرچھائیاں دل میں ابھر آئیں کبھی
ساتھ مل کر وہ زمانے جو گزارے دیکھنا
غم کے سائے جب تمہاری منزلوں کو ڈھانپ لیں
تیرگی میں تم امیدوں کے ستارے دیکھنا
وقت کی اس بھیڑ میں گر لوٹ آنا ہو کبھی
عشق نے جو زخم بخشے وہ ہمارے دیکھنا

0
27