کون سے موڑ پہ یہ وقت ٹھہر جائے گا
جو بھی آیا ہے یہاں، چھوڑ کے گھر جائے گا
اتنی تلخی ہے مری زیست کے پیمانے میں
یاد کا زہر رگ و پے میں اتر جائے گا
دشتِ تنہائی میں بکھریں گے خیالوں کے گلاب
تیری یادوں کا دھواں بھی بے اثر جائے گا
وصل کی رات ہے مہمان، ذرا رک جاؤ
چاند ڈھلتے ہی یہ جادو بھی بکھر جائے گا
ہجر کی شام ہے اور دل کی تڑپ کہتی ہے
غم کا سورج مری آنکھوں میں اتر جائے گا
پاؤں زخمی ہیں مگر شوق کا عالم دیکھو
تیرے دیوانے کا اب نام کدھر جائے گا؟
موت سچ ہے تو مری جان! ڈریں کیوں اس سے
آدمی ٹوٹ کے مٹی میں بکھر جائے گا
تلخیِ زیست سے گھبرا نہ مرے دوست کہ اب
درد حد سے جو بڑھے گا تو سنور جائے گا
وقت کی گرد اڑے گی تو اسے ڈھونڈو گے
عادل اب یاد کی حد سے بھی گزر جائے گا

0
6