طریقِ بیعت، اصولِ صحبت، الگ الگ ہے جدا جدا ہے
کہ شیخ و رندوں کی فکر و نیت، الگ الگ ہے جدا جدا ہے
یہاں پہ فن اور ہنر کی قیمت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
قلم کا جادو زباں کی طاقت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
کسی کے دامن میں اشکِ غم ہیں کسی کے دامن میں خوب گوہر
ہر آدمی کی ازل سے قسمت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
کوئی ہے قصرِ طرب کا مالک، کوئی ہے محل سکوں کا وارث
ہر اک بشر پر عطائے قدرت الگ الگ ہے، جدا جدا ہے
کسی کے گھر میں محض کھلونا کسی کے گھر کی وہ آبرو ہے
نظر میں سب کے مقام عورت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
تلاش تم کو محبتوں کی، ہمیں محبت ہی ڈھونڈتی ہے
ہماری قسمت تمہاری چاہت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
ہمارا شیوہ دیے جلانا تمہاری فطرت ہے گھر جلانا
ہماری کوشش تمہاری محنت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
ہمیں بھروسہ خدا پہ ہے اور یقین تم کو ہے خنجروں پر
ہماری قوت تمہاری طاقت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
یہ معجزہ بھی خدا ہی کا ہے نواع خلقت کروڑوں لیکن
ہر ایک رنگت ہر ایک صورت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
یہ دشمنِ دیں جو چاہیں کرلیں نہ کام آئیں گی ان کی چالیں
مرے خداکی نکات حکمت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
کسی کی ڈولی کسی کی ارتھی سفر کے لیلی و نہار ہی ہیں
سفر پہ دونوں ہیں پر مسافت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
شکست دل تک نہ بات پہنچی نہ بھید کوئی کھلا ہے اب تک
ہر ایک دل کی طریق الفت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
ملی ہے آبا کے صدقے تم کو ہمیں قلم نے دلایا کاظم
ہمارا شہرہ تمہاری شہرت الگ الگ ہے جدا جدا ہے
کاظم شیرازی

0