| ہمارے ہاتھ لگی ہے خزاں رسیدہ بہار |
| کشیدہ بخت رہے، مل گئی خمیدہ بہار |
| خزاں نے لوٹ مچائی، کیا ہے سب تاراج |
| چمن سے لوٹ گئی آج آب دیدہ بہار |
| کَسے ہوئے تھے بدن گرچہ زرد بانہوں میں |
| مگر سنبھالے رہی ہم کو برگزیدہ بہار |
| نظر پڑی ہے جو بے کیف پھیکے چہروں پر |
| لپٹ کے روئی گلوں سے کوئی ندیدہ بہار |
| شبوں کے کوہِ گراں کے تلے دبی تھی جو |
| نمایاں ہونے لگی صبحدم دمیدہ بہار |
| رکھا تھا ہم نے جسے صرف باغبانی کو |
| نمک حرام نے لوٹائی ہے دریدہ بہار |
| تھکے ںہیں ہیں رشیدؔ اب بھی عزم باقی ہے |
| کوئی بتائے ہمیں کیوں ہے یوں رمیدہ بہار |
| رشید حسرت، کوئٹہ |
| ۱۴ مئی، ۲۰۲۶ |
معلومات