بنایا تھا مجھے مشہور جو زمانے میں
"کسر نہ چھوڑی تھی اس نے مجھے گرانے میں"
ہوس نہیں ہے تو کیا ہے یہ شہرتوں کی طلب
یہ عیب داری ہے اللہ کے خزانے میں
فقیر گوشہ نشینی کی چاہ رکھتے ہیں
جو کام آتی ہے خود کی خودی سجانے میں
سجا لیا جو خلوت میں دل کے حجرے کو
رضا خدا کی ہے حاکم اسے بنانے میں
غَفَل کی بزم سے بہتر ہے یاد کی خلوت
ہے چَکا چونْد یہ کاری بھی بھول جانے میں
جو بھول جاتا ہے بے شک وہ دل ہے مردہ دل
حیاتِ دل ہے تو یادوں سے دل بسانے میں
خدا معاف نہیں کرتا شرک کو ہرگز
کبیرہ جرم ہے غیروں سے دل لگانے میں
غنی جو ہوتا غرضوں سے پاک ہوتا ہے
بھلا خدا کی غرض کیا ہے آزمانے میں
ذکیؔ وہ شخص رہے گا جہاں میں سر چڑھ کے
جو یاد تازہ رکھے دم کے آنے جانے میں

0
2