| اشارے وقت نے کتنے دیئے کہاں سمجھے! |
| خدا کرے کہ محبت کی بھی زباں سمجھے |
| نشان دیکھ کے کتنے ہی اپنی آنکھوں سے |
| ہیں کم ہی لوگ مصیبت کو امتحاں سمجھے |
| جو دل کے زخم کو پڑھ لے بغیر پوچھے کچھ |
| وہی تو درد کی خاموش داستاں سمجھے |
| چراغ ذات کا جلتا ہوا تو دیکھ مگر |
| یہ روشنی ہے کہاں تک کوئی کہاں سمجھے |
| جو اپنے آپ سے آگے نکل گیا اک بار |
| وہی تو خاک میں پوشیدہ آسماں سمجھے |
| ہمیں تو عشق نے اتنا شعور بخشا ہے |
| کہ سنگِ راہ کو بھی اپنا کارواں سمجھے |
| جہاں پہ ختم ہوئی عقل عشق بول اٹھا |
| نیا وہیں سے یہ دل رازِ صد نہاں سمجھے |
| ہر ایک شخص کو چشمِ یقیں میسّر کب |
| کوئی تو خاک کو بھی راہِ عاشقاں سمجھے |
| وہ شخص کیسے ہو محظوظ زندگانی سے |
| جو ہمنوا ہی کو اپنے وبالِ جاں سمجھے |
| عجیب لوگ ہیں لفظوں میں ڈھونڈتے ہیں وفا |
| کوئی تو خامشی کو آنکھ کا بیاں سمجھے |
| محبتوں میں فقط وصل ہی نہیں ہوتا |
| کوئی فراق کو بھی عشق کا نشاں سمجھے |
| کسی کا حسن ہی قائل نہیں کیا کرتا |
| جو دل کو جیت لے طارق اسے جہاں سمجھے |
معلومات