منصور صدرِ بزمِ یاران الوداع
منصور بزمِ یاراں کی پہچان الوداع
منصور خوش مزاج ملن سار وضع دار
کم کم ہیں تجھ سے اب یہاں انسان الوداع
قیدِ دیارِ غیر سے آزادی مل گئی
تو جا رہا ہے توڑ کے زندان الوداع
جاتے ہو اپنے دیس کو اپنوں کے بیچ میں
پردیس کی فضاؤں کے مہمان الوداع
سنتے تھے نثر پارے ترے ذوق و شوق سے
نثری نشستِ بزم کے سلطان الوداع
خوشیوں کے سلسلے ترے رکھے خدا دراز
منصور توسدا رہے شادان الوداع
حفظ و امان میں رہے اللہ کے تو سدا
مشکل کی گھڑیاں تیری ہوں آسان الوداع
شامِ فراق مل لو گلے ان سے تم سحاب
ملنے کا کوئی پھر نہیں امکان الوداع

0
3