بخت کا میرے ستارہ روشنی میں آ گیا
بے دھڑک اک ماہ پارہ روشنی میں آ گیا
فائدے کی دھند آنکھوں سے ہماری چھٹ گئی
آخرش سارا خسارہ روشنی میں آ گیا
دہر کی تاریکیوں میں اب تلک ڈھونڈا جسے
وہ نظر مجھ کو نظارہ روشنی میں آ گیا
سونے والا تھا کوئی دریا اندھیرا اوڑھ کر
ایک دم اس کا کنارہ روشنی میں آ گیا
اپنی وقعت جان جائے گا بہت جلدی اگر
آگ سے روٹھا شرارہ روشنی میں آ گیا
وقت کی تاریکیوں میں کھو چکا عنوانِ زیست
کس طرح آخر دوبارہ روشنی میں آ گیا
روشنی میں خال و خد چھپ جاتے ہیں لیکن قمرؔ
جب ہوا اس کا اشارہ روشنی میں آ گیا
قمرآسیؔ

0