بڑھ رہی ہے تشنگی ساقی خدارا جام لاؤ
ہم ابھی پر جوش ہیں پھر سے دوبارہ جام لاؤ
ہوش میں آئے تو لوٹا دیں گے سب کو پائی پائی
کچھ کرو اب تو کہیں سے بھی ادھارا جام لاؤ
رت جواں ہے جا چکی لوٹا خزاں کا پھر سے موسم
گلشنِ غمگین میں آئے بہارا جام لاؤ
اپنی زلفوں کو سنبھالو وار کر تی ہیں یہ دل پر
دیکھ ان کو پی نہ لوں مے خانہ سارا جام لاؤ
جل رہا ہے دل مرا اب شمع کی مانند ساغر
ہو گیا ہے عشق میں کافی خسارا جام لاؤ

0
42