| بجھا ہے چاند بھی تو روشنی نہ پانے سے |
| “اک آفتاب کے بے وقت ڈوب جانے سے” |
| کریں اجالا ہے موقع ملا چراغوں کو |
| اندھیری رات نے پوچھا ہے یہ زمانے سے |
| وہ ایک شخص جو روشن تھا میرے سینے میں |
| میں ڈھونڈتا ہوں اسے آج ہر بہانے سے |
| وہ جس نے دل کو محبت کا راستہ بخشا |
| ہے دور ہو کے بھی نزدیک وہ ٹھکانے سے |
| ہمیں خبر تھی کہ منزل نہ پائیں گے لیکن |
| سکون ہم کو ملا راستے پہ جانے سے |
| جو اپنے آپ کو کھو کر خدا کو پا جائے |
| وہی نکلتا ہے دنیا کے ہر فسانے سے |
| کبھی جو ٹوٹ کے بکھرا تو یہ سمجھ آیا |
| نکھرتا کون ہے دنیا میں ٹوٹ جانے سے |
| بلند عشق رہا ہار جیت سے طارِق |
| کسے غرض ہے کسی کو یہاں ہرانے سے |
معلومات