| اشک گرتے ہیں تو تکبیر ادا ہوتی ہے |
| اشک ڈھلتے ہیں تو ہر سانس دعا ہوتی ہے |
| سن لو سرگوشی کبھی سوکھے ہوئے پتوں کی |
| ایک آہٹ ہی کبھی شورِ بپا ہوتی ہے |
| روشنی عکس کہاں، نور کا پرتو یہ ہے |
| کب اندھیروں میں مری جان، فنا ہوتی ہے |
| چشمِ نمناک بیاں کرتی ہے حالت دل کی |
| خامشی میں ہی تو الفت کی بقا ہوتی ہے |
| سوزِ باطن سے ہی ملتی ہے خبر منزل کی |
| شوق کی راہ میں ہر گام جزا ہوتی ہے |
| کب بیاں ہوتی ہےسجدوں میں یہ دل کی حالت |
| خاک اڑتی ہوئی، دشتوں سے شفا ہوتی ہے |
| کون سمجھا ہے بھلا تشنہ لبوں کی منزل |
| پیاس بڑھ جائے تو قطرے میں گھٹا ہوتی ہے |
| ذکر جب چھڑتا ہے اس شوخ کے کاکل کا کہیں |
| پھر تو ہر سانس ہی خوشبو کی قبا ہوتی ہے |
| تیری صورت جو نظر آئے کسی صورت میں |
| پھر تو دیوار بھی آئینہ نما ہوتی ہے |
| اس نے پائی ہے ترے در کی گدائی عامر |
| جس کی جھولی میں بھی افلاک کی جا ہوتی ہے |
معلومات