اشک گرتے ہیں تو تکبیر ادا ہوتی ہے
اشک ڈھلتے ہیں تو ہر سانس دعا ہوتی ہے
سن لو سرگوشی کبھی سوکھے ہوئے پتوں کی
ایک آہٹ ہی کبھی شورِ بپا ہوتی ہے
روشنی عکس کہاں، نور کا پرتو یہ ہے
کب اندھیروں میں مری جان، فنا ہوتی ہے
چشمِ نمناک بیاں کرتی ہے حالت دل کی
خامشی میں ہی تو الفت کی بقا ہوتی ہے
​سوزِ باطن سے ہی ملتی ہے خبر منزل کی
شوق کی راہ میں ہر گام جزا ہوتی ہے
کب بیاں ہوتی ہےسجدوں میں یہ دل کی حالت
خاک اڑتی ہوئی، دشتوں سے شفا ہوتی ہے
کون سمجھا ہے بھلا تشنہ لبوں کی منزل
پیاس بڑھ جائے تو قطرے میں گھٹا ہوتی ہے
ذکر جب چھڑتا ہے اس شوخ کے کاکل کا کہیں
پھر تو ہر سانس ہی خوشبو کی قبا ہوتی ہے
تیری صورت جو نظر آئے کسی صورت میں
پھر تو دیوار بھی آئینہ نما ہوتی ہے
اس نے پائی ہے ترے در کی گدائی عامر
جس کی جھولی میں بھی افلاک کی جا ہوتی ہے

2