گود میری چارپائی
نیند آئے گَھن گَھنائی
بند پردے آنکھ کے کر
خوابوں کی بارش ہے چھائی
ہاتھ بالوں پھیر تیرے
لوری والے گیت گاؤں
دور بھیجوں ڈر خیالی
میٹھی نَوم مَیں سُلاؤں
باد آہستہ چلی اب
پنکھی بھی سارے ہیں خاموش
سر رکھو آغوش میری
نیند اب آئے گی مدہوش
پاس ہُوں تیرے مَیں ہر دم
خوابوں میں بھی ساتھ تیرے
دنیا کی سب فِکر چھوڑو
پکڑا مُجھ کو ہاتھ تیرے
ہیں نگہبانی کو تارے
چاندنی چادر کو اوڑھے
نیند جھنجھوڑے ہے تجھ کو
بیچ کر سو ، خَر و گھوڑے
سو جا میرے چاند پیارے
چاندنی بھی تو سو پائے
باد خوابوں کو بلائے
گود میری میں تو سو جائے
تیرے منہ کی مسکراہٹ
میری دنیا کو سجائے
تیری سانسوں کی یہ دھڑکن
میرے بھی دل کو چلائے
چاند تارے جگمگائیں
خوابوں والے پُھل کھلائیں
رات کی چادر کو اوڑھے
دن کی سب باتیں بُھلائیں
چھوڑ دو سب رکھ رکھاؤ
یہ پہر اپنا بناؤ
سچ یہی ، رَکھ پَت ' رَکھا پَت
باقی سب کچھ بھول جاؤ
تُجھ کو سہلاؤں تھپتھپا
نیند کی جاری ہو برکھا
دن کی بھاگم دوڑ بُھولو
لوری سُن نِسْیاں دو تَرْکھا
سب بھلا دو غم خدارا
بچپنے کو پھر سے اپناؤ
گود میں آؤ مری تم
نیند میٹھی اب سو جاؤ
بند کر دو آنکھیں پیاری
کھولیں گے پھر سے ، دَمِ صُبْح
زندگی تو امتحاں ہے
ساتھ چلتے ہیں ' حُسْن ، قُبْح
بند پلکیں ہو رہی ہیں
نیند آئی دیکھو گہری
وقت بِسمِلؔ سونے کا اب
سو رہا ہر ایک شہری

0
18